Search Results for: سالی سیکس

میری سالی کی چدائی

یہ کہانی جو میں آپ لوگوں کو سنانے جا رہا ہوں یہ میری اور میری سالی کی ہے۔میری شادی میری پسند سے ہوئی تھی۔ میری بیوی ایک خوبصورت ترین اور سیکی عورت ہے۔ اور میری سالی بھی کسی سیکس کی پڑیا سے کم نہیں تھی۔ میری شادی کو تین سال ہو چکے تھے میری بے تکلفی میری سالی کے ساتھ کافی زیادہ تھی۔ میرا سسرال پٹھان فیملی سے تعلق رکھتا ہے انکے خاندان کی ساری لڑکیاں ایکدم سرخ سفید ہیں۔ اور بہت ہی خوبصورت اور سیکسی۔ میری سالی کی عمر اس وقت بیس سال تھی جبکہ میری بیوی بائیس سال کی تھی اور میری اپنی عمر اٹھائیس سال تھی۔ میں اس وقت ایک کمپنی میں بہت اچھی جاب پر تھا میرا ٹرانسفر کمپنی نے ایک دوسرے شہر کردیا تھا جہاں نہ تو میرے گھر والے تھے اور نہ ہی میرے سسرال والے یہ دونوں ایک ہی شہر میں رہتے تھے۔ میں اپنی بیوی کو لے کر اس گھر میں شفٹ ہو گیا تھا۔ میری بیوی کا نام حمیرا تھا جبکہ میری سالی کا نام سمیرا تھا۔ ایک دن میری بیوی نے مجھے بتایا کہ وہ سمیرا کو یہاں بلوا رہی ہے وہاں گھر میں کچھ پرابلم ہے اور سمیرا کافی ڈسٹرب ہے۔ میں نے اسکو بخوشی اجازت دے دی اس میں منع کرنے والی کوئی بات تھی بھی نہیں کیونکہ سمیرا کو نزدیک رکھنا تو میری دلی خواہش تھی میں اسکے ساتھ سیکس تو نہیں کر سکتا تھا مگر اسکو اپنے قریب تو رکھ سکتا تھا حالانکہ میرے دل میں اسکے ساتھ سیکس کرنے کی شدید خواہش تھی۔ وہ ایک ایسی لڑکی تھی جس میں سیکس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ کس پاگل کا دل نہیں چاہے گا اسکے ساتھ سیکس کرنے کا۔ میں بھی تو آخر مرد تھا ایک روٹی سے پیٹ کہاں بھرتا ہے۔ خیر کچھ دن بعد سمیرا ہمارے گھر آگئی اسکے چہرے کی اداسی سے مجھے کچھ اندازہ تو نہ ہوا مگر یہ سمجھ آگیا کہ واقعی کچھ گڑبڑ ہے۔ خیر سمیرا آگئی۔ اب اسے کچھ دن یہاں رہنا تھا۔ وہ مجھ سے بھی زیادہ بات چیت نہیں کر رہی تھی۔ میں آپ کو یہ بتابا بھول گیا کہ میری بیوی اپنا وقت گذارنے کے لیے ایک اسکول میں پڑھا رہی تھی۔ سارا دن وہ اکیلی ہوتی تھی تو اس نے ایک اسکول میں جاب اسٹارٹ کردی وہ دن میں واپس گھر آجاتی تھی۔ خیر سمیرا کو رہتے ایک ہفتہ ہوگیا تھا میں اور میری بیوی اسکو تقریباً روزانہ ہی باہر لے جاتے تھے اور رات کو دیر سے واپس آتے تھے تاکہ سمیرا کا دل بہل جائے۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا تھا کہ وجہ کیا ہے جو سمیرا اتنی اداس اور اپ سیٹ ہے تو میری بیوی نے بتایا کہ ابو اسکی شادی اسکی مرضی کے خلاف کرنا چاہتے ہیں وہ کسی اور لڑکے میں دلچپسی رکھتی ہے جبکہ والد اسکے خلاف اپنے دوست کے بیٹے سے اسکی شادی کرنا چاہتے ہیں اور اس کے نہ ماننے پر اسکے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں۔ میں یہ سن کر سوچ میں پڑگیا کہ اب کیا کیا جائے سمیرا تو کسی اور میں دلچسپی رکھتی ہے وہ تو کبھی بھی ہاتھ نہیں رکھنے دے گی۔ اور اگر اس نے شور مچا دیا تو میری تو زندگی تباہ ہو جائے گی۔ مگر ایک رات اچانک میرے اندازے غلط ثابت ہوگئے۔ میری بیوی اس رات مزے سے میرے ساتھ بھرپور سیکس کرنے کے بعد سو رہی تھی۔ مجھے پیاس محسوس ہوئی تو میں اٹھا اور فریج سے پانی نکالنے لگا تو معلوم ہوا کہ کمرے میں رکھے فریج میں ایک بھی بوتل ٹھنڈے پانی کی نہیں ہے تو میں نے کمرے سے باہر جا کر کچن کے فریج سے پانی پینا چاہا۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کچن کے سامنے ٹیلی فون کا اسٹینڈ تھا جہاں سمیرا کھڑی کسی سے فون پر باتیں کر رہی تھی اس نے مجھے نہیں دیکھا تھا میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا کسی نہ کسی چیز کی آڑ لیتا ہوا سمیرا کے نزدیک پہنچ گیا میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سمیرا نے اپنا ایک ہاتھ اپنی شلوار میں ڈالا ہوا تھااور یقیناً وہ اپنی چوت کو مسل رہی تھی بلکہ وہ ان ہدایات ہر عمل پیرا تھی جو اسے فون پر مل رہی تھیں شاید وہ اپنے بوائے فرینڈ سے باتیں کر رہی تھی اور انکے تعلقات کافی زیادہ تھے جو کہ شاید سیکس تک جا پہنچے تھے سمیرا اس سے باتوں میں بھی اپنی چاہت اور سیکس کی طلب کا اظہار کر رہی تھی۔ اور وہ لڑکا شاید اسکو گائیڈ کر رہا تھا کہ کس طرح وہ اس وقت اپنی پیاس بجھا سکتی ہے سو وہ ایسا ہی کر رہی تھی۔ یہ سب دیکھ کر مجھے حیرت کا جھٹکا تو لگا مگر میری خوشی کی انتہا بھی نہ رہی کیونکہ میں اب سمیرا پر ہاتھ ڈال سکتا تھا اب تک میں یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ سیل پیک ہوگی اور اس لڑکے کے علاوہ کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دے گی۔ مگر انکے تعلقات کا اندازہ کر کے میں نے یہ اندازہ لگا لیا کہ اب سمیرا پر ہاتھ ڈالنا مشکل نہیں ہے۔اگر اس نے شور بھی مچایا تو میں اسکو اس فوں پر ہونے والی بات چیت اور اسکی حرکتوں کو بتا کر بلیک میل کرسکتا ہوں۔ اب میرے ہاتھ میں سمیرا کی کمزوری آگئی تھی۔خیر یہ سب دیکھ کر مین پانی پیئے بغیر واپس آگیا۔ اور اسکے بعد مجھے نیند نہیں آئی میں پوری رات سوچتا رہا اور منصوبہ بناتا رہا کہ کسی طرح سمیرا پرہاتھ رکھا جائے کہ وہ آرام سے میری بانہوں میں آجائے۔ خیراسی سوچ بچار میں صبح ہوگئی اور میرے آفس جانے کا وقت ہوگیا ۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ سمیرا ابھی تک سو رہی ہے ناشتہ نہیں کرے گی وہ ۔ اس نے جواب دیا ہاں پتہ نہیں ابھی تک سو رہی ہے شاید طبیعت ٹھیک نہ ہو میں دیکھ لونگی آپ ناشتہ کر کے آفس جائیں مجھے بھی دیر ہو رہی ہے اسکول سے ۔ میں اسکی بات سن کر ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگیا اور تھوڑی دیر بعد آفس کے لیے روانہ ہوگیا۔ آفس میں بھی سارا دن میں منصوبے ہی بناتا رہا پھر شام کو واپس آیا تو میری بیوی میرے لیے ایک خوشخبری لے کر بیٹھی تھی۔ اس نے بتایا کہ اسکول میں ایک سیمینار ہو رہا ہے اسکو دو دن کے لیے ہیڈ کوارٹر طلب کیا گیا ہے جو کہ دوسرے شہر میں تھا،
میں نے اس سے کہا ٹھیک ہے میں آفس میں چھٹیوں کے لیے اپلائی کر دیتا ہوں پھر ساتھ چلیں گے۔ اس نے جواب دیا نہیں مجھے اکیلے ہی جانا ہوگا کسی کے ساتھ نہیں جاسکتی کیونکہ اسکول کی اور بھی ٹیچرز ہیں جو جارہی ہیں سارا انتظام اسکول کررہا ہے ہماری رہائش اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کا۔ یہ سن کر تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا پھر میں نے کہا میں کیا گھر میں اکیلا رہونگا اس نے جواب دیا سمیراہے نہ آپکے ساتھ اور پھر میں دو دن میں واپس آجاؤنگی۔ میں نے اداس ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے اس کو اجازت دے دی۔ پھر ہم لوگوں نے کھانا کھایا اور سونے کی تیاری کرنے لگے میں نے اپنی بیوی کو اپنے اعتماد میں رکھنے کے لیے اس سے پوری رات بھرپور پیار کیا اور اسکو سیکس کا ہر ممکن مزہ دیا۔ وہ صبح جب اٹھی تو بڑی خوش تھی کہ اسکو اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا ہے جو اسکی دو دن کی جدائی بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ خیر میری بیوی فٹافٹ تیار ہو کر اپنے اسکول چلی گئ اب اسکو تیسرے دن واپس آنا تھا۔ اب گھر میں میں اورسمیرا تھے، مجھے بھی اب آفس جانا تھا سو میں بھی تیار ہو کر نہ چاہتے ہوئے بھی آفس چلا گیا۔ خیر میں پلان کر چکا تھا کہ آج کی رات کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ آفس میں اپنا پلان ترتیب دیا اور اس پر عمل کرنے کا سوچ لیا۔ میں آفس سے واپس شام میں گھر آیا تو سمیرا کے اندر کچھ بے چینی محسوس کی ۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو مگر کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی خیر میں اس کو نظر انداز کرتا رہا۔ پھر اسی طرح وقت گذرا اور رات کے کھانے کا وقت ہوگیا سمیرا نے بہت اچھا کھانا بنایا تھا میں کھانے کے دوران اسکے کھانے کی تعریف کرتا رہا اور وہ شکریہ ادا کرکے خاموشی سے کھانے میں مصروف رہی۔خیر کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر سمیرا تو برتن دھونے چلی گئی اور میں چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا گیا جیسے مجھے سونا ہو مگر میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا سمیرا سے کس طرح بات شروع کروں ابھی سوچتے کچھ دیر ہی گذری تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی میں نے بولا آجاؤ سمیرا اندر آگئی میں نے کہا کیا ہوا ٹھیک تو ہو۔ وہ خاموشی سے میرے سامنے بیٹھ گئی اور کچھ نہ بولی میں نے اس سے پوچھا کیا ہوا سمیرا بتاؤ کیا بات ہے۔ تم پریشان کیوں لگ رہی ہو مجھے۔ پھر وہ بلک بلک کر ایکدم سے رونا شروع ہوگئی میں اٹھا اور اسکے نزدیک گیا اور اسکو تسلی دینے لگا کچھ دیر رونے کے بعد وہ چپ ہوئی تو پھر اپنی کہانی سنانا شروع کردی۔اس نے بتایا کہ وہ کسی لڑکے سے محبت کرتی ہے اور اس سے ملی بھی کئی دفعہ ہے اور اسکے سوا کسی اور سے شادی نہیں کرنا چاہتی ہے۔ اور اسکو میری مدد کی ضرورت ہے میں نے ایکدم اس سے ایک ایسا سوال کردیا جسکو سن کر وہ اچھل پڑی میں نے اس سے پوچھا تم نے اس لڑکے کے ساتھ سیکس کیا ہے۔ وہ یہ سوال سن کر حیرت سے مجھے دیکھنے لگی پھر اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور اس نے کوئی جواب نہیں دیا پھر سر جھکا کر آہستہ سے بولی نہیں ایسا کچھ نہیں کیا میں نے ۔ پھر میں نے کہا کچھ تو ایسا ضرور ہے جو تم کو اتنی طلب ہے اسکی۔ ورنہ ایسا نہیں ہوتا۔ اب سمیرا لاجواب تھی اسکی چوری پکڑی جارہی تھی۔ پھر وہ بولی ہم لوگ ملے ضرور ہیں مگر کوئی غلط کام نہیں کیا ہم نے۔ پھر میں اسکو باتوں میں لگاتا رہا اور آخر کار میں نے اگلوالیا کہ ان دونوں نے کسنگ بھی کی ہے اور ایک دوسرے کو ننگا تک دیکھا ہے مگر سیکس نہیں کیا۔ سو اب باری میری تھی اپنا پتہ چلنے کی۔ میں نے پوچھا تمہیں بہت طلب ہے اسکی؟ جی! سمیرا نے جواب دیا اگر میں تمہاری یہ طلب پوری کردوں تو؟ وہ میری بات سن کر اچھلی ایسے جیسے کسی سانپ کو دیکھا ہو۔ اور حیران نظروں سے میری جانب دیکھنے لگی، پھر میں نے اسکو باتوں میں لگایااور یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ دیکھو تم بھی جوان ہو اور میں بھی مجھے بھی سیکس کی ضرورت ہے اور تمہیں بھی تم اسکے بغیر نہیں رہ سکتی میں اپنی بیوی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آج کی رات ہم دونوں اپنی ضرورت پوری کرسکتے ہیں اگر تم چاہو اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے مجھے دیکھتی رہی اور کچھ نہ بولی۔ پھر میں نے دوبارہ اس سے یہ ہی سوال کیا مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا مگر سر جھکا کر بیٹھی رہی۔ میں اسکے پاس سے اٹھا اور کہا تم اپنے کمرے میں جاؤ اور سوچو پھر اگر تم راضی ہو تو آجانا واپس نہیں تو سمجھ لینا ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔۔ یہ کہہ کر میں اپنے بیڈ پر بیٹھ گیا وہ بھی خاموشی سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ جو پتہ چلا ہے وہ سر ہوگا کہ نہیں۔ ایسا تو نہیں کہ یہ رات خالی جائے گی۔لیکن تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہی میرے دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی میں خوشی سے اچھل پڑا اور جاکر دروازہ کھولا تو دروازے پر سمیرا سر جھکائے کھڑی تھی۔میں سمیرا کو دیکھ کر خوشی سے دیوانہ ہو رہا تھا۔ میں نے سمیرا کا ہاتھ پکڑا اور اسکو اپنی جانب کھینچ کر اپنے ساتھ لپٹا لیا اور مظبوطی سے جکڑ لیا سمیرا بھی مجھے اپنی انہوں میں جکڑ چکی تھی اسکا نرم اور گداز جسم محسوس کرتے ہی میرے لنڈ میں حرکت شروع ہوگئی۔ میں نے سمیرا کو اپنے ساتھ لپٹائے لپٹائے اندر کھینچ لیا اور روم کا دروازہ بند کردیا۔ پھر میں نے اسکو خود سے الگ کیااور اسکی جاب دیکھا تو ابھی تک نظریں نیچے کیئے ہوئے تھی میں نے دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرہ پکڑ کر اسکے ہونٹوں پر ایک بھرپور کس کیا۔ وہ بھی میرے کس کا جواب دینے لگی پھر میں نے دونوں ہاتھ پیچھے لے جاکر اسکے کولہے اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر زور سے دبائے جس سے اس نے ایک لمبی سانس لی اور اچھل کر مزید میرے ساتھ چپک گئی پھر میں نے ذرا دیر اسکے کولہوں کا مساج کرن
ے کے بعد اسکی شرٹ میں پچھے سے ہی ہاتھ ڈالا اور اسکی ننگی کمر کو سہلانے لگا۔ وہ اب مست ہونے لگی تھی اسکی سانسیں تیز ہونے لگی تھیں۔میں اب واپس ہاتھ نیچے کی طرف لایا اور یہ جان کر میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ سمیرا نے شلوار میں الاسٹک ڈالی ہوئی تھی میں نے دونوں ہاتھ اسکی شلوار میں ڈال دیئے اور اسکے کولہوں کو جکڑ کر ایک بار پھر سے بھرپور طریقے سے سہلانے لگا۔ وہ اب بری طرح مچل رہی تھی کہ میں کسی طرح اسکو چھوڑ دوں شاید اسکی بے تابی بڑھ رہی تھی۔ خیر میں اسکو کیا چھوڑتا میں نے ایک ہی جھٹکے سے اسکی شلوار کو گھٹنوں تک کھینچ کر اتار دیا۔ اب وہ نیچے نیچے تو ننگی ہو گئی تھی اسکی گوری رانیں دیکھ کر میرا دل مچل اٹھا تھا۔ اور اب میری برداشت سے بھی باہر ہو رہا تھا کہ اسکو چودے بغیر سکون نہیں ملنا تھا مجھے۔ اب میں اسکے ممے دیکھنا چاہتا تھا سو اب میں نے اسکی قمیض پر حملہ کیا اور چیک کیا تو پتہ چلا کہ اس نے ایک زپ والی قمیض پہنی تھی میں نے اس زپ کو ایکدم نیچے کیا تو کافی چست ہونے کی وجہ سے ایکدم ہی نیچے ڈھلک گئی۔ اور اسکے شانے ننگے ہو گئے جس پر پتلی سی بریزی کی اسٹرپ جو کہ بلیک کلر کی تھی اسکے گورے بدن پر قیامت ڈھا رہی تھی۔اب میں مزید انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا اسکی چوت کو اپنے موٹے لنڈ سے بھرنا تھا مجھے۔ اسکی چوت کی گرمی اور نرمی سے اپنے لنڈ کو فیضیاب کرنا تھا۔ سو میں نے اس سے کہا سمیرا اب مزید انتظار نہیں ہوتا اس نے پہلی بار میری بات کا جواب دیا مجھ سے بھی اب انتظار نہیں ہو رہا جلدی کریں۔ میں اسکی بات سن کر خوشی سے پاگل ہونے لگا تھا۔ میں نے فٹافٹ اسکی قمیض کو اسکے خوبصورت بدن سے الگ کیا۔ اور پھر اسکے بریزر کے ہک کھول کر اسکے بڑے بڑے ممے کو آزاد کردیا وہ ایسے اچھل کر میرے منہ کے سامنے آئے جیسے پکا ہوا آم ہو ایکدم گورے اور چکنے ممے۔۔۔۔۔۔۔۔ واہ میں تو خوشی سے دیوانہ ہورہا تھا میری رال ٹپکنے کو تھی۔ پھر میں نے اسکی شلوار جو ابھی تک گھٹنوں تک تھی اسے بھی اتار اب وہ میرے سامنے بالکل ننگی کھڑی تھی۔ اسکا گورا اور سیکسی بدن مجھے بھرپور دعوت دے رہا تھا۔ اب میری باری تھی اپنے کپڑے اتارنے کی میں نے جلدی جلدی اپنا نائٹ سوٹ اتارا مگر انڈروئیر کو چھوڑ دیا سمیرا کے لیے۔اب میں نے سمیرا کی جانب دیکھا تو وہ سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھ رہی تھی میں اسکو دیکھ کر مسکرایا اور کہا تمہارے سارے کپڑے میں نے اتارے ہیں میرا ایک کپڑا تو کم سے کم تم بھی اتارو۔وہ میری بات سن کر شرمائی مگر پھر اگلے ہی لمحے وہ آگئے بڑھی اور میری انڈرویئر میں ہاتھ ڈال کر میرا لنڈ پکڑ لیا۔ میں ایسے اچھلا جیسے میرے لنڈ کو کرنٹ لگا ہو۔ مگر اسکے نرم ملائم ہاتھ سے میرے لنڈ کو بہت لذت ملی تھی۔ اب سمیرا نے ایک ہاتھ میں میرا لنڈ پکڑے رکھا اور دوسرے ہاتھ سے میری انڈروئیر اتار دی اب جو اس نے میرا لنڈ دیکھا جو کہ تنا ہوا کسی ڈنڈے کی مانند اسکے ہاتھ میں تھا تو اسکی آنکھوں میں چمک آگئی جس سے اندازہ ہوا مجھے کہ اسکو کافی کچھ معلوم ہے سیکس کے بارے میں لہذا میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس ایک ممے کو اپنے منہ میں لے لیا اور کسی آم کی طرح چوسنے لگا اور دوسرا ہاتھ اسکے دوسرے ممے پر تھا جس کو میں زبردست مساج کر رہا تھا۔ اور وہ میرے لنڈ کو زور زور سے سہلا رہی تھی جس سے میرا لنڈ مزید سخت ہو گیا اور تن گیا۔ اب میں نے سمیرا کو اپنی گود میں اٹھایااور اس کو اپنے بیڈ پر پھینک دیا۔ اسکے بیڈ پر گرنے سے اسکے مموں نے ایک زبردست باؤنس لیا جس سے انکی نرمی اور لچک کا اندازہ ہو رہا تھا خیر اب تو یہ سوئٹ ڈش میرے کھانے کے لیے موجود تھی اور کوئی دعویدار بھی نہیں تھا جو روک سکتا۔ میں بھی جمپ کر کے سمیرا کے اوپر گرا مگر اس طرح کی سمیرا کو میرے بدن سے چوٹ نہ لگے۔ اب میں نے سمیرا کی چوت کی خبر لی اور ایک انگلی سے اسکو سہلانے لگا میں نے محسوس کیا کہ سمیرا کی چوت بالکل گیلی ہو رہی تھی ۔ میں نے ٹشو پیپر کا بکس اٹھا کر اسکی چوت کو صاف کیا اور اسکا گیلا پن بالکل ختم کردیا اسکے بعد میں نے دوبارہ سے اسکی چوت کو سہلانا شروع کردیا پھر ذرا دیر بعد اسکی چوت گیلی ہوگئی۔ ایک بار پھر میں نے اسکو ٹشو پیپر سے صاف کر کے خشک کردیا اب میں نے سمیرا سے کہا میرا لنڈ چوسو جس سے اس نے انکار کر دیا۔ میں نے کہا اگر نہیں چوسو گی تو مجھے مزہ نہیں ملے گا ۔ میری بات سن کر وہ تیار ہوگئی اور اٹھ کر بیٹھی اور مجھے دھکا دے کر بیڈ پر گرا دیا اور فوراً ہی میرا لنڈ اپنے منہ میں لے کر کسی لولی پاپ کی طرح چوسنے لگی۔اف اب میں الفاظ میں کس طرح بیان کروں اسکا منہ کتنا گرم اور کتنا نرم تھا میں اگر شادی شدہ نہ ہوتا اور سیکس کا تھوڑا تجربہ نہ ہوتا تو لازمی میں اسکے منہ ہی فارغ ہو جاتا ۔ مگر میں نے بڑی مشکل سے برداشت کیا مجھے آخر اسکی چوت کے مزے لینے تھے۔ مگر وہ اتنا زبردست طریقے سے میرا لنڈ چوس رہی تھی کہ ہر لمحہ مجھے لگتا تھا کہ میں اسکے منہ ہی فارغ ہونے لگا ہوں پھر میں نے اسکو زبردستی ہٹا دیا اور اب میں نے اسکو دھکا دے کر بیڈ پر گرایااور اسکے اوپر چڑھ کر بیٹھا اور اسکی چوت کے منہ پر اپنا لنڈ رکھا اور اس سے کہا اپنی ٹانگیں کھولے اس نے فوراً ایسا ہی کیا اور اب اسکی چوت میرے لنڈ کو قبول کرنے کو تیار تھی کیونکہ میں نے اپنے لنڈ کا ہیڈ اسکی چوت پر رکھا تو اندازہ ہوگیا اندر کتنی گرمی ہے اور دوسری بات یہ کہ اسکی چوت ایک بار پھر سے گیلی ہوچکی تھی۔یہ سگنل تھا اس بات کا کہ اسکی چوت میرے لنڈ کو نگلنے کے لیے تیار ہے اب باقی کام میرا تھا ۔ اب میں نے اپنا لنڈ اسکی چوت کے منہ پر رکھا اور زور لگایا

Incoming search terms:

Page 1 of 612345...Last »