Search Results for: بہن کو چودنے کی کہانیا

کاش میں اس کا شوہر ہوتا

یہ کہانی ہندی میں تھی میں نے اس کا اردو فونٹ میں ترجمعہ کیا ہے
منجانب : ميك پوددار

میں نے ابھی ابھی لغت کی کہانیاں پڑھنا شروع کیا ہے اور اسی سے خیال آیا کہ میں آپ سب کو اپنی سچی آپ — بیتی بتاؤں.

جس عورت کی میں بات کر رہا ہوں وہ میری پڑوسن شلپا ہے. دراصل میری اور میرے سامنے والے گھر میں رہنے والے لڑکے کی شادی قریب قریب ایک ساتھ ہی ہوئی تھی. میری بیوی اور وہ دونوں نئی دلہن تھی تو دونوں سہیلیاں بن گئی. وہ لڑکی غضب کی چیز ہے. میری بیوی بھی کم خوبصورت نہیں ہے مگر اس لڑکی کی پھگر اور آنکھیں بہت نشیلی ہیں. وہ کافی جدید گھر کی ہے اس لیے ہمیشہ جینز اور ٹاپ وغیرہ پہنتی ہے جس میں اس کی پھگر شادی کے بعد بھی بڑی منشیات لگتی ہے. اس کو دیکھتے ہی میں اپنی بیوی کو بھول جاتا ہوں اور دل چاہتا ہے اس کو رگڑ دوں!

کافی عرصے سے یہ خواہش تھی ، مگر موقع ہی نہیں مل رہا تھا.

ایک بار میری بیوی اپنے مایکے گئی تھی اور میرے ماں — باپ بھی شہر سے باہر گئے تھے. میں رات کی ملازمت کرتا ہوں اس لئے صبح گھر پر آتا ہوں. جس وقت میں گھر آ رہا تھا اس وقت شلپا اپنے شوہر سے بائی — بائی کر رہی تھی کیونکہ وہ اپنی دکان جا رہا تھا. مجھے دیکھ کے اس نے پیاری سی مسکراہٹ دی اور میں نے بھی واپس مسکرا دیا اور اس کے شوہر سے ہاتھ ملایا. پھر وہ اپنی گاڑی میں دکان چلا گیا اور میں بھی اپنے فلیٹ کی طرف مڑا.

تبھی پیچھے سے آواز آئی — بھیا!

میں نے پیچھے گھوم کے دیکھا تو شلپا مجھے پکار رہی تھی. میں نے کہا — جی ہاں بھابھی؟

اس نے کہا — میرے کمپیوٹر میں کچھ خرابی آ گئی ہے اور میں نے ایک ضروری ای میل کرنی ہے. کیا میں آپ کا لیپ ٹاپ استعمال کر سکتی ہوں؟

میں نے کہا — ہاں ہاں! کیوں نہیں!

اور وہ میرے پیچھے پیچھے میرے گھر چلی آئی. میرا لیپ ٹاپ میرے بیڈروم میں تھا تو ہم سیدھا بیڈروم میں چلے آئے. میری بیوی گھر پر نہیں تھی اس لیے کمرہ تھوڑا پھیلا ہوا تھا. شراب کو بوتل ایسے ہی پڑی تھی اور میرے لیپ ٹاپ پر کچھ فحش ویب سائیٹس کھلی ہوئی تھی.

میں نے کہا — بھابھی ، آپ بےٹھيے ، میں لیپ ٹاپ دیتا ہوں!

میں نے ایسے ہی لیپ ٹاپ پکڑا دیا. جیسے ہی انہوں نے لیپ ٹاپ دیکھا تو شلپا کا چہرہ سرخ ہو گیا ، اس نے جھجھکتے ہوئے کہا — بھیا ، آپ ہی کی ویب سائٹ کھول کر دیجیے.

میں نے لیپ ٹاپ لیا تو دیکھا کہ ننگی ویب سائیٹس کھلی ہوئی تھی. میں گھبرا گیا اور بولا — ساری بھابھی ، یہ لیجیے! اب سب ٹھیک ہے!

شلپا بولی — بھابھی نہیں ہے تو خوب عیش ہو رہی ہے؟

میں نے کہا — دل تو بہت کرتا ہے مگر کچھ بھی نہیں کر پاتا ، صرف انٹرنیٹ کا ہی سہارا ہے!

اس نے کہا — کیا آپ مجھے ان ویب سائیٹس کے لنک لکھ کر دے سکتے ہیں؟

میں حیران رہ گیا! میں نے کہا — کیا بھابھی؟

وو بولی — ہاں! وہ اصل میں منیش کو دکھانی ہے ، شاید یہ دیکھ کر وہ تھوڑا رومانی ہو جائیں!

میں نے پوچھا — کیوں؟ کیا وہ ابھی رومانی نہیں ہے؟

تو شلپا بولی — رومانی کا ر بھی نہیں آتا ان کو! بعد رات کو آئے گا دکان سے ، دو پےگ پےگا اور میرے ہاتھوں میں اپنے چھوٹے سے لںڈ کو دے کر کہے گا — ہلا دو!

میں اسے جھروا دیتی ہوں اور پھر وہ سو جاتا ہے. میرے ارمان اور بدن کی گرمی وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے. میں نے کئی بار کوشش کی ، مگر وہ سمجھتا ہی نہیں! کہتا ہے کہ بہت تھک گیا ہوں.

شادی سے لے کر آج تک بس آٹھ یا دس بار ہی ہم نے سیکس کیا ہے جس میں وہ مکمل اندر تک بھی نہیں کیا جا سکا.

وو بولی — بھیا ، یہ میری بہت ذاتی باتیں ہیں ، کسی کو نہیں بتانا!

میں نے کہا — آپ فکر مت کرو!

میں سمجھ گیا تھا کہ لوہا گرم ہے ، ہتھوڑا مارنے کی دیر ہے.

پھر وو بولی — میرا کام ہو گیا ہے ، میں چلتی ہوں.

پتہ نہیں مجھے کیا ہوا ، میں نے کہا — بس ایک چیز دکھانی ہے آپ کو!

اور کہہ کے اپنی جینز نیچے کر دی. میرا آٹھ انچ کا لنڈ کھڑا ہوا پھپھكار رہا تھا. وہ پلٹي اور اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ، پسینہ اس کے گال سے بہنے لگا اور چہرہ سرخ ہو گیا. وہ میرے پاس آئی ، میری آنکھوں میں غصے سے دیکھا اور مجھے زور دار تھپڑ مار دیا. میں بہت گھبرا گیا ، شاید میں نے اس کی باتوں سے غلط سمجھ لیا تھا کہ وہ میرے ساتھ اپنی پیاس بجھا لے گی. مجھے لگا کہ اب میری بدنامی کر دے گی یہ!

مگر وہ بولی — دو سال سے میں آپ کے گھر آ رہی ہوں ، مگر آج پہلی بار بیڈروم تک آئی ہوں پھر بھی تم نے اتنی دیر لگا دی اس چیز کو دکھانے میں؟؟

میری سانس میں سانس آئی اور جان میں جان ، گرتا ہوا لنڈ پھر سے تن گیا اور شلپا کو میں نے بغیر کچھ اور سوچے سمجھے اپنی باہوں میں بھر لیا. میرے بدن کی جیسے برسوں کی پیاس بجھ رہی تھی. میںنے اپنا لںڈ اسکے ہاتھ میں دیا ، اپنے ہونٹ اس کے ہونٹ پر رکھ دئے اؤر جور جور سے چوسنے لگا. میرا ہاتھ اسکے ٹاپ میں داخل ہو گئے اور اس کی برا کا ہک ڈھونڈنے لگے. میں نے بغیر دیر کیے ہک کھولا اور پپيتے جیسے دو ممے میرے ہاتھوں میں آ گئے.

اس کی سانسیں گرم ہو گئی ، میں بتا نہیں سکتا کہ اس کے جسم سے آگ نکل رہی تھی ، وہ پاگلوں کی طرح میرے لںڈ سے کھیل رہی تھی اور مجھے چممے دے رہی تھی. ایک دم جوان نئی دلہن کی طرح تڑپ رہی تھی. میں نے اس کا پسندیدہ میں اور برا اتار کر پھینک دی اور اپنی ٹی — شرٹ اؤر بنیان بھی اتار دیا. میں نے اس کو دیوار کے ساتھ کھڑا کیا اور اپنی چھاتی سے اسکے ممے دبا دیئے ، اس کے ماتھے سے لے کر چھاتی تک ہزاروں چمميا لی اور کئی جگہ تو لال نشان بھی بنا دیے.

وہ بھی بھوكھي شعرانی کی طرح میرے بدن سے کھیل رہی تھی اور میرے ہونٹوں کو ، گالوں کو ، اور چھاتی کو چاٹ رہی تھی. اس کے منہ سے بس آہ… آ او… ممم آ لو یو جان ، میرے حقیقی مرد…. ممممممممم…… ااا……. یہی آوازیں نکل رہی تھی.

میں نے پندرہ منٹ تک اس کے دونوں ممے چوسے اؤر وو تب پاگل سی ہو ہے تھی. میرے لںڈ کو ربڑ کا کھلونا سمجھ کر کھیل رہی تھی اور اپنی چوت پر پايذامے کے اوپر سے ہی رگڑ رہی تھی. لیکن میں بھی کم نہیں تھا ، میں نے اور بھڑكايا ، اس کے ہاتھوں سے لںڈ کھیںچ لیا اؤر اسکا سر نیچے کی طرف دبا کر اشارہ کیا کہ منہ میں لے!

وہ تو جیسے تیار تھی ، پورا لںڈ منہ میں لے کر لليپپ کی طرح چوسنے لگی ، جیسے صحرا کی گرمی میں کسی کو پانی مل جائے!

بیس منٹ بعد میں نے اسے اٹھایا اؤر بستر پر لٹايا. میں نے اپنی جیبھ سے اس کی ناف چاٹي اور اور اس کی پیںٹی کو دانتوں میں لے کر نیچے کیا.

وو بولی — کیا بات ہے آپ میں! کمال کا فن ہے بستر میں عورت کے ساتھ کھیلنے کی! میں کب سے اس خواب کے ساتھ جی رہی تھی ، جو آج پورا ہونے جا رہا ہے.

میں نے کہا — میں بھی اسی خواب کو آج تک دیکھ رہا تھا!

اب وہ پوری ننگی تھی ، چوت بالکل صاف اور پوری گیلی! میں نے اس کی ٹاںگیں تھوڑا پھیلائی اور چوت کا پانی چاٹ کر صاف کیا. وہ چھٹپٹاي اور میرے بالوں کو زور سے کھیںچا. میںنے اسکی چوت کو کھولا تو وہ پوری لال تھی ، میں نے اپنی جیبھ سے چاٹنا شروع کیا اور اس کا چلانا اور تڑپنا!

میں کیسے بتاؤں کہ جتنی دیر تک چہٹا ، وہ پانی چھوڑتی رہی جیسے کی مہینوں سے اس نے پانی نہ جھارا ہو.

توا مکمل گرم تھا ، میںنے پھٹاپھٹ كڈوم نکالا اؤر لںڈ پر چڑھا کر اسکی گاںڈ کے نیچے تکیا رکھا اور دونوں ہاتھوں سے اس کے ہاتھ پکڑ کر لنڈ چوت پر رکھ دیا اس کی! مجھے پتہ تھا کہ وہ بہت چلایگی لہذا اپنے ہونٹوں سے اسکے ہوںٹھ بند کر دیئے اور ایک جھٹکے میں تھوڑا سا گھس گیا. اسکی چوت واقعی کافی کسی ہوئی تھی ، تقریبا انچدي!

ابھی لںڈ آدھا ہی گیا تھا کہ وہ درد سے کراہ اٹھی ، اندر ہی اندر چلا رہی تھی اور پیروں کو جور جور سے پٹكنے لگی. میں نے ایک منٹ بعد دوبارہ دھکا مارا اور پورا لںڈ اندر گھسا دیا. اس نے میرا منہ اپنے منہ سے ہٹایا اؤر جور سے چللاي — یہ کیا کیا؟ میں مر گئی ، اوئی ماں! میں مر گئی! نکالو اسے………….

میں نے بغیر کچھ سنے دھکے مارنے شروع کئے ، دھیرے دھیرے اسے مزا آنے لگا اؤر وو میری کمر میں ناخن مارنے لگی. میں نے بھی اسے خوب چہٹا ، قریب پندرہ منٹ تک اسے چودنے کے بعد میں نے اپنی پوری پچکاری اندر چھوڑ دی. تب تک وہ 1-2 بار جھڑ چکی تھی. وہ میرے جسم کو کس کے پکڑے ہوئے تھی اور چاٹ رہی تھی.

میں تھک کر اس کے مممو پر گر گیا اور وہ میرے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرنے لگی. دو منٹ کے بعد میں اٹھا اور اپنا لںڈ اسکی چوت سے نکالا ، اس نے بڑے پیار سے میرا كڈوم اتارا اور اس کے اندر کا سارا ویرے اپنے مممو پر اڑےل کر مل لیا.

وو بولی — یہ میرا پرساد ہے جو میں اپنے جسم پہ لگا رہی ہوں!

میںنے پیار سے اسے خوب سارے اور چممے دیئے. اسکی چوت سے تھوڑا سا خون چھلک آیا تھا جو میں نے رمال سے صاف کر دیا. وہ بہت خوش تھی ، اس چدائی کے بعد جیسے اس کا دل اور بدن کا ہر عضو کھل اٹھ تھا. وہ اتنی خوش تھی کہ اس کی آنکھوں سے آنسو چھلكنے لگے اور وہ مجھ سے کافی دیر تک چپکی رہی جیسے دل ہی دل وہ چاہ رہی ہو کہ کاش میں اس کا شوہر ہوتا!

میری بھی تمنا پوری ہو گئی تھی. وہ میرے باتھ روم میں اور کپڑے پہن کر چلی گئی.

“یہ پل میں کبھی نہیں بھول سکتی”…… بس یہی بولی اؤر میرے لںڈ کو چوم کر چلی گئی.

اگلے دن وہ مجھے مارکیٹ میں ملی اور بولی — کیا میری یاد نہیں آئی؟

میں نے کہا — کیا کہہ رہی ہو ، یاد تو ہر پل آتی ہے!

وو بولی — میں کل اپنے مایکے جا رہی ہوں!

اور وہاں کا فون نمبر دے کر بولی — شام کو فون کرنا!

دوبارہ اسکو پانے کا موقع مل رہا تھا. وہ ملاقات کیسی رہی ، اگلی بار لکھوںگا. میری کہانی پر اپنے خیالات ای میل کرنا

Incoming search terms: