Search Results for: اردو سیکس کہانی

میری کالج کی کہانی

وستوں میں آج آپ کے لیئے ایک نیو سٹوری لایا ہوں دوستوں سےگزارش ہے کہ اپنی رائے ضرور دیں نوٹ! یہ سٹوری رومن اردو سے ٹرانسلیٹ کی گئی ہے یہ کہانی ہے سارہ اور سہیل کی میرا نام سہیل ہے میں ایک سٹوڈنٹ ہوں،اور بیسٹ سٹوڈنٹ میں شمار ہوتا ہوں،پیپروں کے بعد ہمیں کچھ اسائمنٹس ملے،جس میں رولنمبرز کے حساب سے تین لوگوں کے گروپ بنے،جن کو اس اسائمنٹ پر کام کرنا تھا،میرے گروپ میں دو لڑکیاں تھیں عائشہ اور سارہ وہ میری کلاس فیلو تھیں اسلیئےان سے ہیلوہائے تو تھی ،مگر کوئی خاص فرینڈشپ نہیں تھی،خیر ہمارا ٹاپک تھا* کچی آبادیوں کے مسائل*عائشہ اور سارا میرے پاس آئیں اور مجھ سے پوچھا ،کیسے کام کرنا ہے،میں نے کہا کہ میں کام کر لوں گا ،باقی تم دونوں ٹائپنگ کر لینا،عائشہ تو مان گئی مگر سارا نے کہا کہ وہ میرے ساتھ خود جائے گی،سارا ایک خوبصورت اور پر کشش لڑکی تھی،ہم میں فیصلہ یہ ہوا ،کہ ہم ایک پوائنٹ پر ملیں اور وہاں سے ساتھ ساتھ چلیں،وہ اور میں الگ الگ بستی پہنچے اور اپنا کام شروع کیا،لوگوں کے ویوز ریکارڈ کیئے اور نوٹس بناتے رہے،تین دن تک ہمارا کام کافی حد تک ختم ہو گیا تو ہم یونیورسٹی واپس آ گئے،اور عائشہ کو نوٹس دیے،وہ ان کو ٹائپ کرنے لگی،اس دوران ہم میں کافی انڈرسٹینڈنگ ہو گئی جو کہ پسندیدگی میں بدل گئی تھی ،اب ہم روز ملنے لگے مگر اب آہستہ آہستی مجھ میں اس کی طلب جاگنے لگی،اور میری طلب شاید اس کو بھی محسوس ہوئی ہو گی،کیونکہ میں اب اسے چھونے لگا تھا، **************************** میرا نام سارا ہے میں ایک سٹوڈنٹ ہوں،میری کلاس میں ایک لڑکا تھا ،جو ٹاپر میں آتا تھا ،وہ کافی ہینڈ سم اور گڈ لکنگ تھا،سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ پروفیشن کے ساتھ پوری طرح ایماندار تھا،اس کی یہ ادا مجھے بھا گئی تھی، میری قسمت اچھی تھی کہ مجھے اسائمنٹ اس کے ساتھ ملی،اس نے آفر کی کہ وہ آوٹ ڈور ورک خود کر لے گا ،مگر میں نے اس کے ساتھ جانا پسند کیا ،اس دوران ہم ایک دوسرے کے قریب آ گئے، اتنے قریب کہ میں اس کی آنکھوں میں اپنے لیئے جذبات محسوس کرنے لگی،مجھے ڈر بھی لگتا تھا مگر میرا دل ہر بار اس کے آگے ہار جاتا **************************** ایک دن ہم لائبریری میں بیٹھے تھے ،وہ بکس اٹھانے کے لیئے شیلف کی طرف گئی،اس دن وہ بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی،شیلف زرا ہٹ کر تھی،میں اس کے پیچھے گیا ،میری آہٹ سن کر وہ مڑی مجھے دیکھ کر وہ واپس شیلف کی طرف متوجہ ہو گئی،میں اس کے بلکل ساتھ جا لگا اس کے جسم سے بھینی بھینی مگر ہوش اڑانے والی خوشبو آ رہی تھی ،میں نے دھیرے سے اپنے دونوں ہاتھ اس کی پینٹ پر رکھے اور اس کو ساتھ لگا لیا،وہ ایک دم رک گئی مگر کچھ نہ بولی،میں نے اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیے،اس نےایک گہری سانس لی اور شیلف کو مظبوطی سے پکڑ لیا،میں نے اس کو گردن سے چومتے ہوئے اپنے ہونٹ اس کے گالوں پر رکھ دیئے،تو وہ فورا میری طرف مڑی اس کی چھاتی سانس کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہی تھی ،اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے ،اور اس کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں،میں اپنا ہوش کھو بیٹھا **************************** اس دن میں اپنا نیا سلک کا سوٹ پہن کر آئی،سہیل کی نظریں مجھ پر سے نہیں ہٹ رہی تھیں،میں بکس لینے شیلف کی طرف گی تو سہیل میرے پیچھے آیا،وہ میرے قریب کھڑا تھا اچانک مجھے اس کے ہاتھ اپنی پینٹ پر محسوس ہوئے،اور اس نے مجھےاپنی باہوں میں بھر لیا،میری پوری قمر اس کے ساتھ ٹچ ہو رہی تھی،مجھے اپنی گانڈ پر اس کا لن واضح محسوس ہو رہا تھا،میرے جسم میں سے جیسے جان نکل رہے تھی،میں نے شیلف کو پکڑ لیا ورنہ میں شاید نیچے گر جاتی اس وقت میں نے اپنی گردن پر اس کے ہونٹ محسوس کیئے،اس نے نرمی سے پھر ذرا زور سے میری گردن پر کس کیا اور پھر میرے گالوں کو ہونٹوں سے چوسنے کی طرح کس کرنے لگا،اس کے ہونٹ نرمی سے میری گردن سے گالوں تک کا سفر کر رہے تھے ،ہر لمحے میں بے قابو ہو رہی تھی ،میں نے خود پر قابو پانے کے لیئے پورے جسم کو سٹریچ کیا اس وقت وہ میرے گالوں تک پہنچ کیا ،اچانک میری چوت سے جیسے پانی کا ایک ریلا نکلا ،مجھے اپنی رانوں سے پانی کے قطرے نیچے جاتے ہوئے محسوس ہوئے ،میں فورا اس کی جانب مڑی میرا دوپٹہ نیچے گر گیا جوں ہی میں اس کی جانب مڑی اس نے میرے ہونٹوں کو چوم لیا، **************************** میں نے اس کے ہونٹوں کو پوری طاقت سے کس کیا ،اور 4/5 منٹ بعد اس کے منہ میں اپنی زبان ڈال دی ،تھوڑی سی کوشش کے بعد اس کی زبان میری زبان سے ٹچ ہونے لگی ،میرے ہاتھ اب اس کی چوت اور چوت کے درمیاں تھے،میں نے اس کو شیلف کے ساتھ لگا دیا اور اس کی ایک ٹانگ کوتھوڑا سا اٹھا کر اپنا لنڈ اس کی ٹانگوں کے بیچ میں گھسا دیا ،اس کے لیئے مجھے ذرا سا نیچے ہونا پڑا اب میں اس کی چوٹ کو سہلا رہا تھا ،اور فرنچ کس کر رہا تھا ،اس کے ہلتے ہوئے بوبز مجھے اور پاگل کر رہے تھے ،اچانک مجھے کسی کے بولنے کی آواز آئی اور ہم فورا الگ ہو گئے،اس کو سانس چڑھ گیا تھا اور اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ،اس نے اپنا دوپٹا اٹھایا اور وہاں سے چلی گئی ، کچھ دیر بعد میں بھی وہاں سے باہر آ گیا **************************** میں وہاں سے سیدھا واش روم آئی کچھ دیر تو سانس ٹھیک کرنے میں لگ گئی،اس کے بعد میں نے خود پر دھیان دیا ،میرے بال،لپ سٹک اور کپڑوں کی استری سب خراب ہو گئی تھی ،میں نے اپنی شلوار اتاری تو وہ کافی گیلی ہو گئی تھی ،میں نے ٹشو سے اپنی چوت اور شلوار صاف کی اور باہر آ گئی ، **************************** کچھ دیر بعد وہ مجھے نظر آئی ،میں بلکل پاگل ہو چکا تھا ،کالج میں ایک فش فارم تھا جہاں پر ایک ٹیوب ویل روم بھی تھا،جو کہ کافی آگے جا کر تھا ،جہاں دن کو کوئی نہیں جاتا تھ
ا ،میں نے اسے میسج کر کے وہاں بلایا ، **************************** باہر آئی تو سہیل کا میسج ملا کہ میں فش فارم والی سائیڈ پر آوں،میں جانتی تھی کہ وہاں جانے کا کیا مطلب ہے ،مگر میں کچھ سوچنے سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی ،میں وہاں چلی گئی ، **************************** جب وہ آئی تو میں وہاں موجود تھا ،اس کا آنا ہی اس کی رضا مندی تھی ،وہ جونہی آئی میں نے اس کو بانہوں میں بھر لیا ،اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا،ساتھ ہی میں اس کے بریسٹ کو مسلنے لگا ،مجھے معلوم تھا کہ یہ ایسی جگہ نہیں کہ جہاں سیف طریقہ سے پورا سیکس انجوائے کیا جا سکے،مگر میں سیکس کرنا چاہتا تھا ،میں نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے اورکاندھوں سے اس کی قمیض نیچے سرکا دی اس کے آف وائٹ برا کا سٹرپ بھی نیچے کر دیا ،تھوڑا سا اور نیچے کرنے کے بعد میں نے ہاتھ ڈال کر اس کا لیفٹ نپل باہر نکال لیا ، **************************** اس نے میری قمیض نیچے کر کے میرا نپل نکال لیا اور اسے منہ میں ڈال کر چوسنے لگا ،اب وہ گردن سے نپل تک ساری جگہ وہ بار بار وہ اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر چوستا اورکس کرتا رہا ،میں نے اپنی زندگی میں اتنا مزا کبھی نہیں لیا تھا ،اچانک اس نے اپنا بایاں ہاتھ میری شلوار میں ڈال دیا ،ا سکا ہاتھ میری چوت کو آہستہ آہستہ سے مسلنے لگا،اس نے مجھے وہاں ٹیبل پر بیٹھا دیا اور میری شلوار گھٹنوں تک نیچے کر دی، **************************** میں نے اس کی شلوار آدھی اتار دی اور اس کی چوت میں اپنی انگلی ڈال دی ،اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے آآآہ ہ ہ کی آواز نکالی اور اپنے ہونٹوں کو کاٹنے لگی،تھوڑی سی محنت کے بعد میں نے اپنی پوری انگلی اس کی چوت میں گھسا دی ،ذرا سی دیر میں انگلی آسانی سے اندر باہر ہونے لگی ،اس کی سفید سی ٹانگوں کے درمیاں گیلی گلابی سی چوت میری برداشت سے باہر ہو چکی تھی،میں نے اپنی پینٹ کی زیپ کھولی اور اپنا لن باہر نکال لیا ،ٹیبل زیادہ اونچی نہیں تھی اس لیئے تھوڑا سا جھکنا پڑا ،میں نے اپنا لن اس کی چوت پر رکھا تو اس نے زور سے ایک آہ لی،میری لن کی ٹوپی اس کی چوت کے پانی سے گیلی ہو چکی تھی **************************** اس کا گرم گرم لن میری چوت کے ساتھ رگڑ کھانے لگا ،ہر رگڑ کے ساتھ میری چوت سے مزیز پانی نکلتا ،اس نے میرا پرس اتھایا اور میری قمر کے نیچے رکھ دیا ،میری شلوار پوری اتا ر دی میری قمیض اوپر کی طرف کر دی ،اپنی پینٹ بھی آدھی اتار دی اور اپنا لن میری چوت میں آرام سے ڈالنا شروع کیا ،میری چوت میں اتنی جگہ نہیں تھی ،مگر وہ آرام آرام سے ڈالتا رہا ،مجھے بہت درد ہونے لگا ،میں جو لیٹی ہوئی تھی اٹھ اور اس کے گلے مین بانہیں ڈال دیں ،اس نے میری ٹانگوں کو کھولا اور اوپر اٹھا کر کہا کہ ٹانگیں کھول کر رکھو میں نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور دونوں پاوں بھی ٹیبل پر رکھ دیے اور اپنے دونوں ہاتھ سہارے کے لیئے پیچھے رکھ لیئے **************************** میں نے ایک ہاتھ اس کی گانڈ پر رکھا اور دوسرے سے لن اندر ڈالنے کی کوشش کرنے لگا ،میں نے اب لن اس کی چوت پر رکھ کر ذرا سا زور لگایا تو لن کی ٹوپی اندا چلی گئی وہ فوراا چلائی ،پپلیز نکال لو مجھے بہت درد ہو رہا ہے **************************** جوں ہی لن اندر گیا میری چوت کے دونوں ہونٹوں پر کھنچائو سا ہوا،اور بہت درد ہونے لگا ،اس نے میرے ہونٹوں پر کس کیا ،اور مجھے لٹا دیا ،میری ٹانگیں اپنے کاندھوں پر رکھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے میری قمر پکڑ لی ،اور ایک جھٹکا لگا اور میری چیخ نکل گئی ،میں اپنی چوت کے اندر گرم گرم راڈ محسوس کرنے لگی ،میرے چلانے کی وجہ سے اس نے پندرہ سیکنڈ انتظار کیا پھر باہر کی طرف کھینچا مگر ٹوپی اندر کی طرف ہی رہنے دی **************************** اس کی چوت میں سے ہلکا سا خون نکلنے لگا ،جو میری لن کے ساتھ اور چوت کے پانی کے ساتھ مل کر میری رانوں پر چلا گیا ،می ں نے دوسری بار جھٹکا لگایا تو اب کی بار وہ چلائی نہیں مگر اس نے میرا لن پکڑ لیا اور باہر نکالنے لگی ،میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کو کس کیا اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے، **************************** مجھے بہت درد ہو رہا تھا ،مگر وہ باہر نکالنے پر راضی نہیں تھا ،اس نے ذرا سا انتظار کر کے پھر جھٹکا لگایا اس بار درد کم ہوا اور ایک عجیب سا مزا آیا ،ہر جھٹکے کے ساتھ درد کم اور مزا زیادہ آنے لگا ،اب وہ اور تیزی سے دھکے لگا رہا تھا ، **************************** لن آرام سے اندر جانے لگا تو میں اس کو تیزی سے چودنے لگا ،تھوڑی دیر بعد میں نے اس کو اٹھا کر بٹھا دیا اور اس کے ہونٹوں اور نپلز کو کس کرنے لگا ،وہ بھی کسنگ میں میرا ساتھ دینے لگی،میں ٹیبل پر لیٹ کر اسے زور زور سے چودنے لگا **************************** میرے اوپر لیٹنے کے بعد وہ بڑی تیزی سے میرے اندر باہر کرنے لگا ،اس طریقے سے میری چوت کو بہت تیزی سے رگڑ لگ رہی تھی ،پھر مجھے لگا کہ اس کے لن میں سے کچھ نکل رہا ہے ،جو میں اپنی چوت میں نکلتا ہوا محسوس کر رہی تھی ،وہ بے دم ہو کر میرے اوپر لیٹ گیا، **************************** میں اٹھا اور اس کو کس کرتے ہوئے اپنی پینٹ اوپر کی مجھے اپنی پینٹ ذرا سی گیلی محسوس ہوئی ،اس کی چوت کے پانی اور خون نے میری پینٹ گیلی کر دی تھی،اس نے شلوار پہن لی اور اپنے کپڑے ٹھیک کرنے لگی،پھر ہم الگ الگ وہاں سے روانہ ہوئے، **************************** میں سیدھا گرلز ہوسٹل گئی ،کیونکہ ایک تو مجھے بہت درد ہو رہا تھا ،اور دوسرا میری قمیض خراب ہو گئی تھی ، میں نے اپنی دوست سے کپڑے لیئے اور اپنے کپڑے پھینک کر گھر گئی،دوست کو یہ بتایا کہ ابنارمل پیریڈ ہوئے ہیں ،یہی بات امی کو بتائی، ختم شد **************************** دوستوں سے گزارش ہے کہ بتائیے گا ضرور کہ میری یہ کوشش آپ کو کیسی لگی

Incoming search terms:

Page 1 of 3123