Category Archives: Urdu Font Sex Stories

سیکسی موت ( گرم مصالحہ کے ساتھ)

اگر گاؤں کی سب سے حسین لڑکی کا چناؤ کیا جائے تو عمیرہ بلامقابلہ سب سے حسین لڑکی منتخب ہو جاتی -
وہ تھی ہی ایسی جو اسے ایک دفعہ دیکھ لیتا تو نہ چاہتے ہوئے بھی دوبارہ اس کے طرف دیکھتا تھا
عمیرہ کی عمر چودہ سال تھی لیکن دیکھنے میں وہ سترہ سال کی ایک بھرپور لڑکی نظر آتی تھی
چودہ سال کی عمر میں ہی اس کے اٹھان بہت زبردست تھی اور وہ گاؤں کی الہڑ مٹیاروں کو بہت پیچھے چھوڑ گئی تھی اس کا جسم ایک سیکس بم بن چکا تھا – اس کے جسم کے نشیب و فراز نے گاؤں کے متوالے لڑکوں کے دلوں میں ایک میٹھا درد جگا دیا تھا اور بہت سارے دلوں کی دھڑکن بن چکی تھی اور دل ہی دل میں سب اس سے یک طرفہ پیار کرنے لگے تھے-اور ہوس کے پجاریوں کی نظریں اس کے کنوارے جسم کے ابھاروں پر ہوتی تھیں چاھے وہ آگے کے ھوں یا پیچھے کے -
ان سب باتوں سے قطع نظر عمیرہ ایک معصوم اور سادہ لڑکی تھی
چھوٹی عمر میں ہی عمیرہ کو اپنے غیر معمولی حسن کا احساس ہو گیا تھا لیکن یہ سب جان کر بھی اس میں غرور نام کی کوئئ چیز نہ تھی
وہ ابھی غرور حسن سے انجان تھی اس میں زیادہ اس کے والدین کی تربیت کا اثر بھی تھا جنہوں نے اسے بچپن میں ہی سکھا دیا تھا کہ سب انسان برابر ہیں رنگ و روپ اور پیسہ آنی جانی چیزیں ہیں ان پر تکبر اور غرور بالکل بھی نہیں کرنا چاہئے -
عمیرہ کے پیٹ میں شام سے ہی ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا پھر بھی وہ سکول چلی گئی لیکن کلاس میں اس کے پیٹ کی درد بڑھ گئی اور استانی نے اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھے تو استفسار کیا عمیرہ کے بتانے پر کہ اس کے پیٹ میں شدید درد ہے اس کو باقی وقت کی چھٹی دے دی اور وہ گھر آ کر لیٹ گئی ، آہستہ آہستہ اس کے پیٹ کی درد کم ہو گئی اور اس کو نیند آ گئی
شام کو جب عمیرہ کی آنکھ کھلی تو اس کو اپنی شلوار گیلی محسوس ہوئی اور وہ اٹھ کر واش روم میں چلی گئی واش روم میں جا کر عمیرہ نے جب اپنی شلوار اتاری تو اس پر خون کے دھبے تھے اور اس کی چکنی اور نرم و نازک سفید پھدی خون سے تر تھی یہ دیکھ کر وہ ڈر گئی اور اسے دھو کر دوسری شلوار پہن لی اور واش روم سے باہر آ گئی – یہ بات کسی کو بتاتے ہوئے اسے شرم محسوس ہو رہی تھی اور اندر ہی اندر ڈر بھی رہی تھی کہ ایسا کیوں ہوا ؟ پہلے تو کبھی ایسے نہیں ہوا تھا وہ اپنی کسی سہیلی کو بتانا چا رہی تھی لیکن شرم نے اسے کسی سہیلی کے پاس نہیں جانے دیا – شام میں جب اس کی ماں کی نظر بستر پر پڑی تو اس نے عمیرہ کو اپنے پاس بلایا اور اسے باتوں ہی باتوں میں بتا دیا کہ وہ اب بالغ اور جوان ہو چکی ہے اسے ماہواری اور اس سے نپٹنے کا طریقہ بھی بتا دیا – عمیرہ چودہ سال کی عمر میں ہی بالغ ہو چکی تھی اب اس کی ماں نے اسے اپنی عصمت کی حفاظت اور زمانے کے سرد گرم سے آشنا کرنا شروع کر دیا تھا اور اس کے ذہن میں یہ بات ذہن نشین کروانے میں کامیاب ہو گئی تھی کہ عورت کا گوہر اس کی عزت ہوتا ہے اس لئے اس کی حفاظت جان سے بھی بڑھ کر کرنی چاہئے -

نومی جس کا اصل نام نعمان تھا ایک دل پھینک لڑکا تھا جہاں کوئی جوان لڑکی دیکھ لیتا اس کی رال ٹپکنے لگتی اور اس پر لائن مارنے سے باز نہیں آتا تھا بعض دفعہ اس کی بات بن جاتی اور زیادہ تر منہ کی ہی کھانی پڑتی تھی – محلے کی ساری دو نمبر لڑکیوں کو چود چکا تھا لیکن ایک دفعہ وہ محلے کی ایک لڑکی کے ساتھ پکڑا گیا تھا اور بڑی مشکل سے اس کی جان بچی تھی ورنہ تو محلے کے لوگ اس کی شادی اس سے کر دینے پر تلے ہوئے تھے وہ بس اپنے خاندان کے اثرورسوخ کی وجہ سے بچ نکلا تھا اور اسے سارے خاندان میں ذلیل ہونا پڑا تھا اس کے بعد اس نے محلے کی لڑکیوں کے ساتھ ایسے کام سے توبہ کر لی تھی لیکن اس کام سے باز نہیں آیا تھا
آج بھی وہ بائیک لے کر شکار کی تلاش میں نکلا تھا-پچھلے کچھ دنوں سے کوئی لڑکی اس کے ہاتھ نہیں آئی تھی اس لئے آج وہ بس سٹینڈ کی طرف آیا تھا کیونکہ ایسی جگہ پر کوئی نہ کوئی لڑکی پھنس جاتی تھی کوئی لڑکی نہ بھی ملے لیکن کال گرل ضرور مل جاتی تھی
بس سٹینڈ پر بہت سی لڑکیاں کھڑی تھیں نومی نے اپنی بائیک بس سٹینڈ کے پاس کھڑی کی اور اوپر بیٹھے بیٹھے لڑکیوں کی طرف دیکھنے لگا ایک دو لڑکیوں نے سرسری نظروں سے اس کی طرف دیکھا لیکن کسی نے لفٹ نہیں کروائی ، لیکن وہ ڈھیٹ بن کر وہاں کھڑا رہا ، اس دوران بس آ گئی اور سب لڑکیاں بس میں سوار ہو گئیں بس سے بہت سے لوگ اترے ان میں لڑکیاں بھی تھیں نومی نے بس سے اترنے والی لڑکیوں کو تاڑنا شروع کر دیا اس نے ان میں سے کسی لڑکی کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا اور قسمت آزمانے کا سوچا ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر اس کا پیچھا کرنے کی ٹھانی اور اس کے پیچھے بائیک لگا لی لیکن وہ لڑکی بس سٹینڈ سے چند قدم آگے جا کر کھڑی ہو گئی- نومی نے اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا وہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی اور پھر روڈ کے دائیں طرف دیکھنے لگتی جدھر نومی کھڑا تھا لڑکی اور نومی کی نظریں آپس میں تین چار بار ملیں اور نومی لڑکی کی طرف دیکھ کر مسکرایا بھی لیکن لڑکی کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں آیا نومی چند منٹ تو اس کی طرف دیکھتا رہا پھر اس نے اس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا- نومی نے بائیک لڑکی کے بالکل سامنے کھڑی کی اور بڑے پیارے لہجے میں اس سے پوچھا -
“مس آپ کسی کا انتظار کر رہی ہیں ؟”
لڑکی نے بنا کسی جھجک کے جواب دیا جی میں اپنے دوست کا انتظار کر رہی ھوں وہ ابھی تک نہیں آیا اور اس کا نمبر بھی بند جا رھا ھے -
لڑکی کا رویہ اس کی توقع سے بھی بڑھ کر حوصلہ افزا تھا لڑکی نے بنا مائند کئے اس کی بات کا جواب دیا تھا وہ کوئی بولڈ لڑکی لگ رہی تھی
یہ سن کر تو نومی کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی اور فورا کہا “مس میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ھوں ؟”
تو لڑکی نے کہا
نہیں شکریہ !
میرا دوست بس آنے ہی والا ہو گا
اگر نہ آیا تو مجھے پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا -
اگر میں آپ کی کوئی مدد کر سکوں تو مجھے خوشی ہو گئی نومی نے کہا-
اگر میرا دوست نہ آیا تو شاید مجھے آپ کی مدد کی ضرورت پڑے لڑکی نے کہا -
یہ سن کر نومی کے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی کہ اس کا دوست نہ آۓ -
عمیرہ نے سولہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تھا – ان دو سالوں میں اسے سہیلیوں سے مرد اور عورت کے تعلقات کے بارے میں کافی آگاہی حاصل ہو گئی تھی ، اس کی سہیلیوں کے گروپ میں ایک لڑکی ایسی بھی تھی جس نے گاؤں کے ایک لڑکے سے سیکس کیا ہوا تھا ، وہ اپنے پیار بھرے سیکس سے بھرپور قصے اپنی سکھیوں کو سناتی رہتی تھی ، عمیرہ کے لئے یہ رنگین قصے بالکل نئے تھے ایسے قصے سن کر اس کے دل میں بھی میٹھا میٹھا درد ہونے لگا تھا ایسے پیار بھرے قصے سن سن کر اس کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہونے لگی تھی کہ کوئی اس کی بھی تعریف کرے ، اس سے بھی محبت بھری باتیں کرے کوئی اس کے حسن کو سراھے لیکن ماں باپ کی عزت کا سوچ کر اس نے یہ سب باتیں ذہن سے جھٹک دی تھیں کیونکہ چودہ سال کی عمر میں جوان ہونے کے بعد اس کی ماں نے اسے سمجھا دیا تھا کہ عزت ایک دفعہ جانے کے بعد واپس نہیں آتی اور مرد بھنورے ہوتے ہیں جس کلی کا رس چوس لیں اس پر واپس نہیں آتے اس نے یہ باتیں دل میں نقش کر لیں تھیں اسلئے تو گاؤں کا کوئی لڑکا اسے ورغلانے میں کامیاب نہیں ہوا تھادل پر دماغ حاوی تھا دو تین لڑکوں نے اس سے راہ رسم بڑھانے کی کوشش کی تھی کسی نے پیار کے نام پر تو کسی نے پیسہ دکھا کر لیکن عمیرہ کسی کے بہکاوے میں نہیں آئی تھی -
میٹرک کے بعد گاؤں کے اردگرد کوئی کالج نہ ہونے کی وجہ سے عمیرہ میٹرک سے آگے نہ پڑھ سکی تھی اور سارا دن گھر پر ہی رہتی تھی ، محلے کی کچھ عورتوں نے اس کے پاس اپنے بچوں کو ٹیوشن کے لئے بھیجنا شروع کر دیا ،
ذیشان چہارم میں پڑھتا تھا ، اس کا باپ جتنا بدصورت تھا ذیشان اس کے برعکس بہت ہی خوبصورت تھا ، ذیشان کا والد چھوٹی عمر میں ہی گھر سے بھاگ گیا تھا ، مختلف علاقوں کی آوارہ گردی کے دوران اس کی ملاقات ایک شکاری سے ہوئی اور اس نے اس کو ملازم رکھ لیا تھا ،وہ بہت ذھین تھا اسلئے اس نے شکاری کے ساتھ رہتے ہوئے جلد ہی انگریزی بولنا بھی سیکھ لی تھی شکاری کے ساتھ اسے بہت سے ملکوں کی سیر اور جنگلوں میں جانے کا موقع ملا تھا ،
افریقہ میں ایک مہم کے دوران ان کے گروپ پر لٹیروں نے حملہ کر دیا تھا اور سب کو اپنی طرف سے مار دیا تھا اور سب کچھ لوٹ کر لے گئے تھے -
ذیشان کے والد کی قسمت اچھی تھی کہ لٹیروں کے جانے کے بعد نزدیکی قبیلے کا وچ ڈاکٹر گزرا اس نے سب کو دیکھا اور ذیشان کے والد کو شدید زخمی حالت میں زندہ دیکھ کر فوری قبیلے میں واپس لے گیا اور جنگلی جڑی بوٹیوں کے علاج سے چنگا بھلا ہو گیا تھا قبیلہ شہر کے نزدیک ہونے کی وجہ سے قبیلے کے لوگ انگریزی سمجھ اور بول لیتے تھے اسلئے وہ قبیلہ میں ہی رک گیا تھا ، قبیلے میں ہی اس کی شادی ہو گئی تھی ، شادی کے ڈیڑھ سال بعد اس کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جو بہت ہی حسین جمیل تھا ،لیکن افسوس ناک بات یہ تھی کہ زچگی کے دوران اس کی بیوی قوت ہو گئی تھی ، بیوی کی جدائی کے بعد اس کا دل قبیلے میں نہ لگا اور وہ اپنا بیٹا لے کر واپس پاکستان آ گیا تھا ، قبیلے میں رہتے ہوئے اس نے بہت سے پراسرار علوم بھی سیکھے تھے جن کا فائدہ وہ اکثر اٹھاتا رہتا تھا گاؤں کا چوہدری بھی اس سے دب کر رہتا تھا ، اب اس کا بیٹا ذیشان عمیرہ کے پاس ٹیوشن کے لئے جانے لگا تھا -
نومی کے دل کی گہرائیوں سے یہ دعا نکلی تھی کہ اس حسین لڑکی کا دوست نہ آئے -
اس نے لڑکی سے اس کا نمبر لینے کی کوشش کی لیکن لڑکی نے نمبر دینے کی بجائے اس کا نمبر لے لیا – لڑکی نے اس کا نمبر لینے کے بعد اس سے کہا تھا کہ آپ پلیز میرے ساتھ ادھر کھڑے نہ ھوں میرا دوست مائنڈ کر سکتا ھے ، اس لئے نومی بس سٹینڈ پر کھڑا ہو کر یہ ظاہر کرنے لگا تھا کہ وہ کسی کا انتظار کر رھا ھے لیکن اس کی نظریں لڑکی پر ہی تھیں ، اس وقت اس کی دھڑکنیں بہت تیز تھیں اور چہرے پر گومگو کی کفیت تھی کہ پتا نہیں اس کے ہاتھ یہ لڑکی آتی بھی ھے یا چکنی مچھلی کی طرح پھسل جاتی ھے ،
پندرہ منٹ بعد اس کے موبائل کی گھنٹی بجی تو اس کی موبائل سکرین پر ایک انجان نمبر جگمگا رھا تھا اس نے لڑکی کی طرف دیکھا وہ کان سے موبائل لگائے اس کی طرف ہی دیکھ رہی تھی ،
نومی نے کال اٹینڈ کی تو لڑکی نے کہا میں روبی ھوں میرے دوست کا نمبر بند جارہا ھے میں بہت پریشان ھوں گھر واپس بھی نہیں جا سکتی کیا آپ میری مدد کریں گے ؟
یہ سن کر تو نومی کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہی اور اس نے کہا جی ضرور -
نومی نے بائک سٹارٹ کی اور لڑکی کے پاس لے گیا ، لڑکی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نومی کے پیچھے بائک پر بیٹھ گئی ، نومی اسے ایک قریبی ریسٹورنٹ لے گیا جہاں اس نے کولڈ ڈرنک کا آرڈر دیا ،
نومی نے اپنا تعارف کروایا اور روبی سے اس کے متعلق پوچھنے لگا تو روبی نے کہا کہ میں ملتان کے نزدیک ایک گاؤں سے ھوں اور صرف دوستی کی خاطر اتنا لمبا سفر کر کے ادھر لاہور قربان سے ملنے آئی ھوں لیکن قربان کا نمبر بند جا رہا ھے – لڑکے ہوتے ہی بیوفا ہیں روبی نے کہا تو نومی نے کہا سب ایسے نہیں ہوتے جیسا کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ، نعمان عرف نومی گھر سے شکار کرنے کے لئے نکلا تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ خود شکار ہونے جا رھا ھے ،
روبی جان بوجھ کر سٹاپ سے تھوڑا آگے کھڑی ہوئی تھی کہ کوئی منچلہ اسے لفٹ کے بہانے ساتھ لے جائے اور اس کے جسم کی آگ کو اچھے سے ٹھنڈا کر سکے ، پچھلے دس دن سے وہ سیکس کے لئے ترس رہی تھی اور خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن آج ایک اور زندگی کے خاتمے کے لئے خود کو نہ روک سکی تھی -
‎روبی نے اپنا تعارف کروایا اور کہنے لگی کہ شام کے بعد ہمارے گاؤں میں بس نہیں جاتی اسلئے میں واپس ملتان بھی نہیں جاسکتی ، کیا یہاں کوئی اچھا سا ہوٹل ھے جہاں شریف فیملی رہ سکے تو نومی نے کہا کہ آج کے دور میں اکیلی لڑکی کا ہوٹل میں رہنا ٹھیک نہیں ھے اس کا دوست کراچی گیا ہوا تھا اور اس کے فلیٹ کی چابی نومی کے پاس تھی اسلئے اس نے کہا اگر آپ کو مجھ پہ اعتبار ھے تو آپ میرے ساتھ میرے گھر میں رہ سکتی ہیں -
ہوٹل میں اکیلی لڑکی کا رہنا تو واقعی خطرناک ھے وہاں ساری رات ڈرتی رھوں گی یہاں آپ ھوں گے تو کوئی ڈر خوف نہیں ہو گا روبی نے کہا تو نومی کے باچھیں کھل اٹھیں – ابھی دوپہر کا وقت تھا نومی یہ سوچ کر کہ روبی میرے ساتھ صبح تک رہے گی دل ہی دل میں بہت خوش ہو رھا تھا کہ آج کی رات اس کی زندگی کی حسین راتوں میں سے ایک رات ثابت ہونے والی ھے – دوسری طرف روبی دل ہی دل میں اس وقت کو کوس رہی تھی جب پہلی بار اس کی آنکھ رات کے چار بجے کھلی تھی اور اس نے ٹیلی ویژن لگایا تھا اگر اس رات اس کی آنکھ نہ کھلتی تو آج نومی کی زندگی کا سورج غروب ہونے والا نہ ہوتا -اس کے برعکس نومی اپنی خوش بختی پر ناز کر رھا تھا کہ اتنی حسین لڑکی اس کی بانہوں میں آنے ہی والی ھے -یہ بات کنفرم ہونے کے بعد کہ روبی اس کے جال میں پھنس گئی ھے وہ بھی بنا دشواری کے تو نومی مطمئین ہو گیا ، وہاں سے اس نے روبی کو ساتھ لیا اور بازار کی طرف نکل گیا ، بازار سے نومی نے روبی کو اس کی پسند کا پرس ، لپس سٹک اور چند کلپ لے کر دئیے حالانکہ روبی نے نومی کو منع کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نومی نے اصرار کر کے یہ معمولی سی شاپنگ کروائی تھی -
شاپنگ کے بعد نومی نے روبی کے ساتھ ایک بہترین ہوٹل میں لنچ کیا اور روبی کے ساتھ شام ساڑھے چار بجے کے قریب اپنے دوست کے فلیٹ پر آ گیا -
فلیٹ پر آ کر روبی واش روم میں گئی اور اچھی طرح منہ ہاتھ دھو کر فریش ہو گئی ، نومی وہاں صوفہ پر بیٹھا تھا اور روبی آ کر بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی ، نومی پرانا پاپی تھا اس نے روبی کی رضامندی جاننے کے لئے کہا کہ آپ یہاں صبح تک بے فکر ہو کر رھو میں صبح ناشتہ کے وقت آؤں گا تو روبی کہنے لگی کیا میں یہاں اکیلی رھوں گی ؟ ‏

نومی نے کہا بنت حوا کے ساتھ تنہائی “آگ اور پٹرول کے ملاپ کے برابر ھے” آپ جیسی حسین لڑکی کا ساتھ اور رات کی تنہائی ، مجھ سے کنٹرول نہیں ہو سکے گا -
اس چیز کی ٹینشن مجھے ہونی چاہیئے ، حسن ہو اور حسن کی تعریف کرنے والا نہ ہو تو حسن کا احساس کیسے ہو گا ، تم رات یہیں میرے ساتھ ہی رھو گئے روبی نے فیصلہ کن لہجے میں کہا -
نومی نے اس کی رضامندی جان لی تھی وہ سیکس کے لئے آمادہ تھی ،
بس پھر کیا تھا نومی اٹھا اور جا کر بیڈ کے کنارے روبی کے ساتھ بیٹھ گیا روبی نے بھی کوئی اعتراض نہیں گیا ،
روبی بہت حسین ہو تم ، پیار بھرے انداز میں کہتے ہوئے نومی نے اپنا ایک ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا روبی نے اپنا دوسرا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا اور نومی کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی نومی روبی کی اس ادا پر ہی گھائل ہو گیا اور اس نے اپنے ہاتھ چھوڑا کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچا اور اپنے اوپر روبی کو گراتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا نومی نیچے اور روبی اس کے اوپر تھی نومی نے اس کی کمر کے گرد بازؤں کا گھیرا تنگ کرتے ہوئے اپنے سینے سے لگا لیا روبی کے چھتیس سائز کے نرم و گداذ ممے نومی کے سینے سے ٹکرائے تو نومی مزے کی انتہائ*ی دنیا میں پہنچ گیا اس کا لن فورا کھڑا ہو گیا اور وہ بہت زیادہ گرم ہو گیا اس نے روبی کے سرخ ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنا شروع کر دیا روبی نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دینا شروع کر دیا – دو جوان جسموں میں لذت کا کھیل شروع ہو گیا جس میں ہار جیت نہیں بس مزا ہی مزا تھا اس کھیل میں روبی آگ تھی تو نومی پٹرول – جب آگ اور پٹرول کا ملاپ ہو تو بس آگ ہی آگ ہوتی ھے گرمی ہی گرمی -آگ اور گرمی کے اس کھیل میں دونوں کے کپڑے اتر گئے تھے ، دو جوان جسم جن کے جذبات میں آگ تھی گرمی تھی اس آگ اور گرمی کے کھیل میں جل رہے تھے لیکن اس جلنے میں بھی سرور تھا، لذت تھی، راحت تھی، سکون تھا، مزا تھا ، نومی بڑے مزے سے روبی کے پنک نپلز چوس رھا تھا ، پنک نپلز والی پہلی لڑکی روبی تھی جو اس کی زندگی میں آئی تھی ورنہ اس سے پہلے آنے والی لڑکیوں کے نپلز براؤن تھے اور ایک دو کے تو کالے تھے روبی کا جسم بےداغ اور سفید تھا نومی نے اس کے سارے جسم پر اپنے ہونٹوں کے نشان ثبت کئے روبی لن کے لئے سسک اور تڑپ رہی تھی اس کے جسم میں لذت بھرا کرنٹ دوڑ رھا تھا وہ لن لینے کے لئے بیتاب ہو رہی تھی
اس کی پھدی کے لپس پھڑک تھے آخر میں نومی نے اپنا لن اس کی پھدی پر فٹ کر لیا، لن کا پھدی پر فٹ ہونا ہی تھا کہ روبی کے جسم میں لذت کی لہریں ڈورنا شروع ہو گئیں ، نومی کا لن عام مردوں سے کافی بڑا اور موٹا تھا جو روبی کی پھدی کی آگ بجھانے کے لئے پرفیکٹ تھا ، نومی نے اس کی پھدی کے سوراخ پر آہستہ آہستہ دباؤ ڈالنا شروع کیا اور پھر
نومی نے ایک زور دار جھٹکا مارا اور اپنا لن روبی کی پھدی میں دھکیل دیا ، روبی کے منہ سے ایک درد بھری چیخ نکلی اس کی پھدی میں ایک جھٹکے سے ہی نومی کا لن جڑ تک اندر جا چکا تھا نومی اندر کرنے کے بعد روبی کی چیخ سن کر رک گیا تھا ، یہ نومی کا ریکارڈ تھا کہ لڑکی چاھے کنواری ہو یا پہلے سے چدی ہوئی وہ پہلے جھٹکے میں ہی سارا لن اندر کر دیتا تھا – روبی کا چہرہ نارمل ہوا تو نومی نے آہستہ آہستہ اپنا لن آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا اور پھر نارمل انداز میں دھکے مارنے لگا اب روبی کو بھی مزا آنا شروع ہو گیا تھا اس نے بھی منہ سے سیکسی آوازیں بالکل فلمی انداز میں نکالنا شروع کر دیں تھیں ، جسے سن کر نومی اور پرجوش ہو گیا تھا اس نے پورے زور سے جھٹکے مارنا شروع کر دئیے تھے -
کمرے میں روبی کی سیکسی آوازیں اور ساتھ نومی اور روبی کے جسم کے ملاپ سے پیدا ہونے والی آوازوں نے ایک الگ ہی راگ وجود میں آ گیا تھا جسے سن کر دونوں مدہوشی ہو چکے تھے -
تقریبا آٹھ سے دس منٹ کی چدائی کے بعد نومی اس کے اندر ہی فارغ ہو گیا تھا اس دوران روبی دو دفعہ ڈسچادج ہوئی تھی اس کے اندر لگی آگ کو قرار آ گیا تھا -
پٹرول جل چکا تھا اور آگ بھی ٹھنڈی ہو چکی تھی-
اگلے تیس منٹ نومی کی زندگی کے لئے اہم تھے ان تیس منٹوں میں اس کی زندگی کا دارو مدار تھا -
نومی مر گیا یا اس کی زندگی بچ گئی یہ جاننے کے لئے اگلا حصہ پڑھنا نہ بھولئے گا

Incoming search terms:

Page 1 of 12112345...102030...Last »